بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج (جمعرات) 3 ستمبر 2026 کو، پچھلی صدی کے قومی ہیرو 'رئیس علی دلواری' کے یوم شہادت اور استعمار کے خلاف مزاحمت کے قومی دن کے موقع پر ایک پیغام میں لکھا:
- آج، 3 ستمبر، رئیس علی دلواری کا یوم شہادت اور برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کا قومی دن ہے۔ وہ قومی ہیرو جو ایک صدی قبل، اسی جنوبی ساحل پر، برطانوی سلطنت کی فوج کے مد مقابل کھڑے ہوگئے تھا۔
- رئیس علی شہید ہو گئے، لیکن مقاومت اور استقامت جاری رہی۔
• بیسنٹ نے ایران کی تاریخ کی گہرائی کو اپنے بچپن کے پچھواڑے کے چھوٹے سے رقبے سے خلط ملط کر دیا ہے
- ایسے دن، بجا ہوگا کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو یاد دہانی کرئی جائے، جو ایران کے بارے میں اپنے تصور کی وضاحت کے لئے، بچپن کے ایام میں، جنوبی کیرولائنا میں اپنے گھر کے پچھواڑے میں چھرے اور جرافے (Rake) سے زہریلے سانپ مارنے کی یادوں کا سہارا لیتا ہے۔
- بیسنٹ کا مسئلہ بالکل یہی ہے کہ اس نے ایران کی تاریخ، تہذیب اور ثقافتی اثاثوں کی گہرائی کو اپنے بچپن کے گھر کے پچھواڑے کے رقبے اور واقعات سے خلط ملط کر دیا ہے۔
- امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایشویل میں جی 20 ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہوں کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "ایرانیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ دوبارہ ایک معمولی ملک بن سکتے ہیں، ایرانی عوام، پارس کے لوگ، عظیم لوگ ہیں اور ان کو موقع دیا جاتا ہے کہ کہ وہ دوبارہ بین الاقوامی نظام میں واپس آ جائیں۔" اس نے دعویٰ کیا: "ایرانیوں کو کچلا جا رہا ہے اور ایک چھوٹا گروہ ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہ سکتا۔ ہم ایران کے زہریلے سانپ کا سر دفنا رہے ہیں، سانپ کو ابھی معلوم نہیں کہ وہ مر چکا ہے، لیکن جب سورج غروب ہوگا، تو وہ مزید نہیں ہلے گا۔"
- ڈاکٹر بقائی نے بیسنٹ کی ہرزہ سرائیوں کا جواب دیتے ہوئے ایکس نیٹ ورک پر لکھا:
- ایک صدی قبل، برطانیہ اپنی پوری طاقت اور بے رحمی کے ساتھ بوشہر اور تنگستان میں فوجی کارروائی کرنے کے لئے آیا۔ رئیس علی دلواری کو شہید کر دیا گیا، لیکن مزاحمت و مقاومت زیادہ طاقت کے ساتھ جاری رہی۔۔۔
• وہ لوگ جو خود کو اپنے پچھواڑے کے ہیرو سمجھتے ہیں
- میں بیسنٹ اور دیگر امریکی حکام سے کہتا ہوں کہ " تم ایک "انتخاب کردہ" (Selected) اور غیرقانونی جنگ بھی زیادہ سے زیادہ سنگ دلی اور ظلم و خونریزی کے ذریعے ایرانی قوم کو منہدم کرنے کے لئے شروع ہوئی تھی، لیکن جو سب سے زیادہ منہدم ہؤا وہ تمہاری مطلق طاقت کا وہم تھا اور جو کچھ نیست و نابود ہو گیا وہ تمہارا اس دعوے کا اعتبار تھا 'کہ تم ایک اخلاقی ملک ہو۔'
- تاریخ ایک بچے اور اس کے گھر کے پچھواڑے کی یادوں سے کہیں وسیع تر ہے اور اس [تاریخ] کا فیصلہ ان لوگوں کے بارے میں واضح ہے جو اب بھی چھرا لہرا کر اور جرافہ سنبھال کر، خود کو اپنے پچھواڑے کا ہیرو سمجھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ